’خیبرپختونخوا اسمبلی ایک ہفتے بعد تحلیل کریں گے‘ عمران خان کا اعلان
پنجاب اسمبلی تحلیل کرکے اصل قربانی ق لیگ نے دی ہے، گمنام نمبروں سے کہا جا رہا تھا عمران خان نے دوبارہ اقتدارمیں نہیں آنا‘ پولیٹیکل انجنیئرنگ نے ہی اس ملک کو تباہ کیا ہے۔ سابق وزیراعظم کی گفتگو
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے ایک ہفتہ میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردیں گے، جس شخص کی زندگی امتحانات سے گزری ہو مگر حق کا راستہ نہ چھوڑا ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے جیسی بھی مشکل آجائے۔ تفصیلات کے مطابق ہم نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرکے اصل قربانی ق لیگ نے دی ہے، گمنام نمبروں سے کہا جا رہا تھا عمران خان نے دوبارہ اقتدارمیں نہیں آنا، پولیٹیکل انجنیئرنگ نے ہی اس ملک کو تباہ کیا ہے، انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جب کہ میں نے 2018 کے جنرل الیکشن میں لوگوں کی اتنی تعداد نہیں دیکھی جتنی پنجاب کے اندر بائے الیکشنز میں لوگ نکلے انہوں نے صرف ایک پیغام دیا ہم ان چوروں کو نہیں مانتے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ شہباز شریف کو ٹیسٹ کرنے جا رہے ہیں اور پہلی بار امتحان میں ڈالیں گے، اس وقت پاکستان کو ایک مضبوط اور طاقت ورحکومت کی ضرورت ہے، پنجاب کی سیاست پورے پاکستان کی سیاست پر اثر ڈالتی ہے، جدھر اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے ادھر پنجاب کھڑا ہوتا ہے، پنجاب کبھی بھی اسٹیبلمشنٹ کیخلاف کھڑا نہیں ہوتا تھا، 17جولائی کے ضمنی الیکشن کے انتخابی نتائج پنجاب کی سیاست پراثرانداز ہوئے، اعتماد کے ووٹ کے لیے پنجاب اسمبلی میں ہمارے وہپ چیف کو یقین تھا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں، چیف وہپ اعتماد کے ووٹ کیلئے تمام ایم پی ایز سے رابطے میں تھا۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو گمنام نمبروں سے بھی کالیں آ رہی تھیں، گمنام نمبروں سے کہا جا رہا تھا کہ عمران خان نے دوبارہ اقتدارمیں نہیں آنا، چن چن کر ہمارے ایم پی ایز پر پریشر ڈالا جا رہا تھا، سندھ کے وزیرآصف زرداری کے ہمراہ ایم پی ایز کو خریدنے آئے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ق لیگ کے مفاد میں ہے، اس لیے ہم نے ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم ہونے کی درخواست کی ہے، ہم نے ساڑھے 3 سال بڑی مشکل سے حکومت کی، کبھی ایک جماعت نکل جاتی تو کبھی دوسری شور ڈالنا شروع کردیتی تھی لیکن شہباز شریف کو رشوت دے کر کام چلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ شہبازشریف ہمیشہ رشوت دیتے آئے ہیں۔
