ملک صحیح سمت میں ہوتا تو ہمیں قرضوں کی ضرورت نہ پڑتی، شہباز شریف
ہمیں آئی ایم ایف کے معاملات میں جکڑے ہوئے ہیں،صحبت پور بلوچستان سیلاب سے شدید متاثر ہوا وہاں آج بھی پانی کھڑا ہے،پنجاب میں دس سال گزارے، اس دوران میری خدمات کا فیصلہ تاریخ کرے گی ، لاہور میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز پروبیشنری آفیسر کی پاسنگ آئوٹ تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک اگر صحیح سمت میں ہوتا تو ہمیں قرضوں کی ضرورت نہ پڑتی، ہمیں آئی ایم ایف کے معاملات میں جکڑے ہوئے ہیں،صحبت پور بلوچستان سیلاب سے شدید متاثر ہوا وہاں آج بھی پانی کھڑا ہے،پنجاب میں دس سال گزارے، اس دوران میری خدمات کا فیصلہ تاریخ کرے گی ۔ لاہور میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز پروبیشنری آفیسر کی پاسنگ آئوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج میرے لئے انتہائی خوشی کا موقع ہے، پاکستان بھر کے چمکتے ستاروں کو اسنا تقسیم کرنا میرے لئے فخر کی بات ہے، پاس آئوٹ ہونے والے افسران کے والدین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
صحبت پور میں سکول کی تعمیر کا ٹارگٹ دیا، بلوچستان کا علاقہ صحبت پور سیلاب میں سمندر نظر آتا تھا، افسران نے سیلاب زدگان کی جو مدد کی وہ قابل تعریف ہے، دکھی انسانیت کی مدد کرنے والوں کو یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے افسران کو جانتا ہوں جنہوں نے لگے سے عوام کی خدمت کی، گزشتہ حکومت کے بعض افسران پر بے بنیاد الزامات لگائے، ان کے خاندان کو شرمندہ کیا گیا۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل نے اس سے قبل میرے ساتھ کام کیا ہے، انہیں ایک باصلاحیت آفیسر کے طور پر دیکھا ہے، انہیں جو ذمہ داری سونپی جاتی تھی وہ برق رفتاری سے سرخ فیتے کو کاٹ کر پورا کرتے تھے۔
اس کے علاوہ اکیڈمی کی دیگر انتظامیہ بھی مبارکباد کی مستحق ہے، ان میں سے کئی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو پاکستان کے عظیم سپوت ہیں اور انہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے نام کمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیوروکریسی نے ملک کو درپیش چیلنجز جس میں غربت، بیروزگاری، تعلیمی فقدان، کام کے عزم کی کمی سمیت دیگر چیلنجز شامل ہیں۔ ایسے افسران کو جانتا ہوں جنہوںپاکستان کیلئے بڑی تندہی سے کام کیا لیکن ان میں سے بعض کو حقائق سے کوسوں دور وجوہات کی بنا پر بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں زچ کیا گیا۔
اس رویہ کی وجہ سے افسران ان کو جو ٹاسک ملتا ہے وہ اسے پورا کرنے کے حوالہ سے کئی بار سوچتے ہیں کہ کہیں سینئرز کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ہمارے ساتھ نہ ہو یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جس سے ہماری سول سروس دوچار ہے اور وہ اپنی توانائیاں اور عزم بھرپور طریقے سے استعمال کرنے سے گریزاں ہیں اور اب یہ پارلیمان، سیاسی قیادت، عدلیہ سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کس طریقہ سے پبلک سرونٹس کو اس خوف سے نکالا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صحبت پور بلوچستان سیلاب سے شدید متاثر ہوا وہاں آج بھی پانی کھڑا ہے۔ وہاں پر ایک اچھا سکول قائم کرنے کا ٹاسک دیا جو مقامی انتظامیہ نے دو ماہ میں ہدف کے مطابق بنایا۔ یہ اس کارکردگی کا ثبوت ہے کہ اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ یہ خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پنجاب میں دس سال گزارے، اس دوران میری خدمات کا فیصلہ تاریخ کرے گی تاہم اس دوران ہم نے سول سرونٹس کو عزت و احترام دیا تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے اور وہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاکر دن رات کام کریں۔
انہوں نے پاس آئوٹ ہونے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری قوم کا مستقبل ہیں، آپ نے سیلاب متاثرین کا ہاتھ تھاما۔وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکاء کو بتایا کہ میں ابھی متحدہ عرب امارات سے ہو کر آیا ہوں ، صدر شیخ محمد بن زید النیہان انتہائی شفقت سے پیش آئے ۔میںنے انہیں پاکستان کے معاشی چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ پاکستان کے ذمے 2ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کر دیں
