عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں جو کارکن گھر بیٹھا رہا وہ تحریک انصاف میں نہیں رہے گا

Wasi
0

 

عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں جو کارکن گھر بیٹھا رہا وہ تحریک انصاف میں نہیں رہے گا

عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے، لیکن اس ریڈ لائن پر حملہ کیا گیا، لاہور اور اس کے ملحقہ علاقے کے کارکنوں کو تاکید کر دی گئی ہے کہ وہ زمان پارک پہنچیں، علی زیدی

 سینئر رہنما پی ٹی آئی علی زیدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں جو کارکن گھر بیٹھا رہا وہ تحریک انصاف میں نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے، لیکن اس ریڈ لائن پر حملہ کیا گیا، لاہور اور اس کے ملحقہ علاقے کے کارکنوں کو تاکید کر دی گئی ہے کہ وہ زمان پارک پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں جو کارکن اور عہدے دار گھر بیٹھا رہا تو وہ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ہوگا۔ علی زیدی نے سوال کیا کہ کیا فواد چوہدری کلبھوشن سنگھ ہے جو اس کے منہ پر کپڑا ڈال کر اسے عدالت لے گئے؟ دوسری جانب رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے بھی پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو 
زمان پارک لاہور پہنچنے کی ہدایت دے دی ہے۔


گزشتہ شب سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کی افواہ پھیلی لیکن صبح فواد چوہدری کو گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ میرے بھائی نے میری گرفتاری پر احتجاج کیا تو گرفتار کرکے اس پر تشدد کیا گیا، ممکن ہے اب عمران خان کو بھی گرفتار کیا جائے۔ الیکشن کمیشن ارکان اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت میں فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کون تھے جنہوں نے گرفتار کیا، ممکن ہے عمران خان کو بھی گرفتار کیا جائے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے دور میں اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، رانا ثناءاللّٰہ مثال ہیں۔ فواد چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بس کیا کریں یہی تو ہوا لیکن افسوناک ہوا۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے فواد چودھری کی بازیابی کی درخواست خارج کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس پہلے حبس بے جا کا تھا اب نہیں کیونکہ اب ایف آئی آر عدالت میں پیش ہوچکی ہے،اب یہ حراست تو غیرقانونی نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ نے فواد چودھری کی بازیابی کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں کہا تھا کہ میرے سامنے معاملہ حبس بے جا کا ہے، لیکن اب ایف آئی آر عدالت میں پیش ہوچکی ہے اس کو کیسے حبس بے جا کہہ سکتے ہیں؟ یہ کیس پہلے حبس بے جا کا تھا اب نہیں کیونکہ اب ایف آئی آر عدالت میں پیش ہوچکی ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)