گورنر کا سمری پر دستخط سے انکار، پنجاب اسمبلی آئینی طور پر از خود تحلیل ہو گئی
ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین، قانون میں وضاحت کےساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان
12 جنوری 2022ء) گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے انکار کر دیا۔ پنجاب اسمبلی 48 گھنٹے مکمل ہونے کے بعد آئینی طور پر از خود تحلیل ہو گئی۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے متعلق اپنے ایک بیان میں گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین، قانون میں وضاحت کےساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوزکے مطابق نگران وزیر اعلیٰ آنے تک پرویز الہٰی ہی وزیراعلیٰ کے عہدے کو سنبھالیں گے۔ پنجاب میں نگران سیٹ اپ کیلئے عمران خان نے کل پرویز الہٰی سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، عمران خان اور پرویز الہٰی کی کل زمان پارک میں ملاقات ہوگی، ملاقات میں نگران سیٹ اپ کیلئے ناموں پرمشاورت ہوگی، عمران خان مشاورت کے بعد پرویز الہٰی کو نگران سیٹ اپ کیلئے نام دیں گے۔
واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسملبی کی تحلیل کی دستخط شدہ سمری 12 جنوری کو گورنر پنجاب کو بھجوائی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا، اعتماد کے ووٹ کی قرار داد کے حق میں 186 اراکین نے ووٹ دیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ بننے کا اعلان کیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے ایک ہفتہ میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردیں گے، جس شخص کی زندگی امتحانات سے گزری ہو مگر حق کا راستہ نہ چھوڑا ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے جیسی بھی مشکل آجائے۔
تفصیلات کے مطابق ہم نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرکے اصل قربانی ق لیگ نے دی ہے، گمنام نمبروں سے کہا جا رہا تھا عمران خان نے دوبارہ اقتدارمیں نہیں آنا، پولیٹیکل انجنیئرنگ نے ہی اس ملک کو تباہ کیا ہے، انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جب کہ میں نے 2018 کے جنرل الیکشن میں لوگوں کی اتنی تعداد نہیں دیکھی جتنی پنجاب کے اندر بائے الیکشنز میں لوگ نکلے انہوں نے صرف ایک پیغام دیا ہم ان چوروں کو نہیں مانتے۔
