دبئی میں خاتون کے اغوا میں ملوث 4 غیرملکیوں کو 3 سال قید کی سزا
حملہ آوروں نے متاثرہ سے 38ہزار درہم نقدی اور 7 ہزار 500 درہم مالیت کا بیگ چھین کر خاتون کی نازیبا تصاویر بھی لیں
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں خاتون کے اغواء اور تشدد کے الزام میں 4 غیرملکیوں کو 3 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ دی نیشنل نیوز کے مطابق دبئی کی فوجداری عدالت نے امارات میں ایک خاتون کے اغوا اور تشدد کے الزام میں چار چینی مردوں کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے، جنہوں نے چین ہی سے تعلق رکھنے والی خاتون کو گزشتہ سال 3 اگست کو اغوا کیا گیا تھا، اس مقصد کے لیے ایک شخص جو اغواء سے ایک ماہ قبل خاتون سے ملا اس نے اس سے کچھ ڈیجیٹل کرنسی خریدنے کے لیے جبل علی میں ملاقات کا اہتمام کیا۔بتایا گیا ہے کہ جب خاتون اپنی کار میں سوار ہوکر ملنے پہنچی تو اس شخص کے ساتھ تین مزید لوگ بھی تھے، جن میں سے ایک نے خاتون کو چینی پولیس سے مشابہت کا شناختی کارڈ دکھایا اور کہا کہ وہ بدعنوانی کے الزام میں اپنے ملک میں مطلوب ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے خاتون کو اس کی کار کی ڈرائیونگ سیٹ سے زبردستی نکال کر گاڑی کے پیچھے لے گئے اور اسے باندھ کر اس کا چہرہ ڈھانپ دیا۔استغاثہ نے بتایا کہ خاتون کو دبئی انویسٹمنٹ پارک میں ایک مقام پر لے جایا گیا جہاں اسے مارا پیٹا گیا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اغوا کاروں نے خاتون کو اپنے ڈیجیٹل کرنسی والیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے موبائل فون کا لاک کھولنے پر مجبور کیا، جس کے بعد ملزمان نے 30 ہزار درہم سے زیادہ مالیت کے ڈیجیٹل کرنسی کے 8 ہزار یونٹس کے ساتھ اس کے پرس سے 8 ہزار درہم نقد رقم اور 7 ہزار 500 درہم مالیت کا اس کا بیگ چھین لیا، انہوں نے خاتون کی نازیبا تصاویر لیں اور دھمکی دی کہ اگر اس نے پولیس کو اطلاع دی تو وہ انہیں آن لائن پوسٹ کر دیں گے۔معلوم ہوا ہے کہ ملزمان واردات مکمل کرنے کے بعد خاتون کو اس کی کار میں چھوڑ کر چلے گئے لیکن وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹانے میں کامیاب ہو گئی اور ان کی گاڑی کی نمبر پلیٹ دیکھ لی، اس نے فوری پولیس کو بلایا اور ڈکیتی کی اطلاع دی۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ میں واقعے سے ایک ماہ قبل ٹیلی گرام پر ایک آدمی سے ملی، اس کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے کچھ ڈجیٹل کرنسی فروخت کرنے کی پیشکش کی، جس کے بعد ہم ملے اور میں نے اس سے کچھ ڈیجیٹل رقم خریدی، اس کے بعد میں نے اس سے دوبارہ رابطہ کیا اور کرنسی خریدنے کے لیے کہا، اس کے لیے ہم واقعے کی تاریخ پر ملے لیکن وہ 3 مزید مردوں کے ساتھ آیا اور انہوں نے مجھے اغوا کر لیا۔عدالتی ریکارڈ میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ پولیس نے ان افراد کا سراغ لگا کر کس طرح انہیں گرفتار کیا، جن کی عمریں 26 اسے 37 سال کے درمیان تھیں، جنہوں نے عدالت میں اغوا، تشدد اور چوری کے الزامات سے انکار کیا تاہم چاروں کو قصوروار پایا گیا اور انہیں جیل کی سزا کاٹنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا تاہم ان کے پاس سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 15 دن ہیں۔
