کراچی میں تحریک انصاف کی 12 سے 14 نشستوں پر فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
ی ٹی آئی کی نشستوں کے نتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے اطلاعات ہیں، پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہو کر اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی تو اس سے بات ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا انکشاف
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی میں تحریک انصاف کی 12 سے 14 نشستوں پر فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کی نشستوں کے نتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے اطلاعات ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان نے دنیا نیوز کے پروگرام آج کامران خان کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کراچی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، جماعت اسلامی 93 نشستیں جیت چکی ہے۔انہوں نے میئر کے انتخاب کیلئے کسی سیاسی جماعت سے اتحاد کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہو کر اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی تو اس سے بات ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے، جبکہ ہمارے ایسے شواہد موجود ہیں کہ تحریک انصاف کی 12 سے 14 نشستیں پر فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ غلط کیا جا رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، اگر پی ٹی آئی والوں کے پاس ان نشستوں کے نتائج کے فارم موجود ہوں تو پھر نتائج کو تبدیل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اتحاد کی صورت میں میئر بنانے کی پوزیشن میں آ گئیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ 235 یونین کونسل کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 93 نشستوں کے ساتھ شہر قائد کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، جبکہ جماعت اسلامی 86 اور تحریک انصاف 40 نشستوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔یوں کوئی بھی جماعت تنہاء میئر منتخب کروانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم اگر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اتحاد کا فیصلہ کریں تو پھر اس اتحاد کو میئر منتخب کروانے سے روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ جبکہ مسلم لیگ ن 7، جے یوآئی اور آزاد امیدوار 2، 2، جبکہ ایم کیوایم اور ٹی ایل پی ایک ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یوسیز میں امیدواروں کے انتقال کے باعث پولنگ نہیں ہوسکی۔
